ایک گھنے، سرسبز جنگل میں بہت سے جانور خوشی خوشی رہتے تھے۔ وہاں رنگ برنگے پرندے چہچہاتے، ہرن دوڑتے، گلہریاں درختوں پر اچھل کود کرتیں اور خرگوش نرم گھاس پر کھیلتے تھے۔ اسی جنگل میں ایک ننھا سا خرگوش رہتا تھا جس کا نام چنچل تھا۔ چنچل نہایت ذہین، ایماندار اور سب کی مدد کرنے والا تھا۔ جنگل کے تمام جانور اس سے محبت کرتے تھے کیونکہ وہ کبھی جھوٹ نہیں بولتا تھا اور ہمیشہ دوسروں کی بھلائی کا سوچتا تھا۔
اسی جنگل کا بادشاہ ایک طاقتور شیر تھا جس کا نام شیر دل تھا۔ اگرچہ وہ بہت بہادر تھا، لیکن وہ انصاف پسند اور رحم دل بھی تھا۔ وہ ہمیشہ کوشش کرتا کہ جنگل میں امن قائم رہے اور کوئی کسی پر ظلم نہ کرے۔
ایک صبح سورج کی نرم نرم کرنیں جنگل میں پھیل رہی تھیں۔ درختوں پر شبنم کے قطرے چمک رہے تھے۔ چنچل اپنی ٹوکری لے کر گاجر اور سبز پتے جمع کرنے نکلا۔ راستے میں اسے ایک ننھی گلہری ملی جو بہت پریشان دکھائی دے رہی تھی۔
چنچل نے پوچھا، "دوست! تم اتنی اداس کیوں ہو؟"
گلہری نے روتے ہوئے کہا، "میں نے سردیوں کے لیے جو اخروٹ جمع کیے تھے، وہ کہیں گم ہوگئے ہیں۔ اب میں کیا کروں؟"
چنچل نے فوراً کہا، "فکر مت کرو، ہم مل کر انہیں تلاش کریں گے۔"
دونوں دوست پورے جنگل میں اخروٹ ڈھونڈنے لگے۔ کچھ دیر بعد انہیں ایک بڑے درخت کے نیچے اخروٹوں کا ڈھیر ملا۔ گلہری خوشی سے اچھل پڑی اور بولی، "یہ تو میرے ہی اخروٹ ہیں!"
اس نے چنچل کا شکریہ ادا کیا اور کہا، "تم واقعی بہت اچھے دوست ہو۔"
چند دن بعد جنگل میں زور دار آندھی آئی۔ تیز ہوا کی وجہ سے کئی گھونسلے درختوں سے گر گئے۔ ننھے پرندے خوف زدہ ہو گئے۔ چنچل نے فوراً دوسرے جانوروں کو آواز دی۔
"دوستو! ہمیں ان پرندوں کی مدد کرنی چاہیے۔"
بندر، ہرن، ہاتھی اور گلہری سب اکٹھے ہوگئے۔ ہاتھی نے اپنی سونڈ سے گرے ہوئے درخت ہٹائے، بندروں نے شاخوں پر نئے گھونسلے بنائے، اور چنچل نے نرم گھاس لا کر گھونسلوں میں بچھا دی۔
پرندوں کی ماں نے خوش ہو کر کہا، "اگر تم سب نہ ہوتے تو میرے بچے محفوظ نہ رہتے۔"
ایک دن چنچل جنگل کے کنارے کھیل رہا تھا کہ اسے ایک چمڑے کی چھوٹی سی تھیلی ملی۔ اس نے تھیلی کھول کر دیکھی تو اس میں سونے کے خوبصورت سکے تھے۔
وہ سوچنے لگا، "یہ یقیناً کسی کے ہوں گے۔ اگر میں انہیں رکھ لوں تو یہ بے ایمانی ہوگی۔"
وہ سیدھا شیر دل کے پاس پہنچا اور بولا، "بادشاہ سلامت! مجھے یہ سکے ملے ہیں۔ براہ کرم ان کے اصل مالک کو تلاش کریں۔"
شیر دل نے خوش ہو کر کہا، "تم واقعی بہت ایماندار ہو۔"
اسی وقت ایک بوڑھا کچھوا دربار میں آیا۔ وہ پریشان تھا اور کہنے لگا، "میرے سونے کے سکے کہیں گر گئے ہیں۔"
چنچل نے تھیلی اسے دے دی۔ بوڑھے کچھوے کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو آگئے۔
"بیٹا! تم نے میری زندگی بھر کی جمع پونجی واپس کردی۔ اللہ تمہیں ہمیشہ خوش رکھے۔"
جنگل کے سب جانور چنچل کی ایمانداری کی تعریف کرنے لگے۔
کچھ ہفتوں بعد شدید گرمی پڑی۔ جنگل کا چھوٹا تالاب خشک ہونے لگا۔ تمام جانور پانی کی کمی سے پریشان ہوگئے۔
شیر دل نے سب جانوروں کا اجلاس بلایا۔
"ہمیں مل کر کوئی حل نکالنا ہوگا۔"
چنچل نے مشورہ دیا، "جنگل کے مشرق میں ایک پرانا چشمہ ہے۔ اگر ہم وہاں تک راستہ صاف کر دیں تو پانی دوبارہ تالاب تک پہنچ سکتا ہے۔"
سب کو یہ تجویز پسند آئی۔
اگلے ہی دن تمام جانور کام پر لگ گئے۔ ہاتھی بڑے پتھر ہٹانے لگے، جنگلی سور مٹی کھودنے لگے، بندر شاخیں صاف کرنے لگے اور خرگوش چھوٹے پتھر اٹھانے لگے۔
شام تک راستہ صاف ہوگیا اور چشمے کا پانی دوبارہ تالاب میں بہنے لگا۔
تمام جانور خوشی سے ناچنے لگے۔
شیر دل نے کہا، "یہ کامیابی صرف مل جل کر کام کرنے کی وجہ سے ملی ہے۔"
ایک روز جنگل میں ایک شکاری داخل ہوگیا۔ اس نے جال بچھایا تاکہ کسی جانور کو پکڑ سکے۔
بدقسمتی سے ایک ننھا ہرن اس جال میں پھنس گیا۔
وہ زور زور سے مدد کے لیے پکارنے لگا۔
چنچل نے آواز سنی اور فوراً اپنے دوستوں کو بلایا۔
چوہوں نے جال کو اپنے تیز دانتوں سے کاٹنا شروع کیا، بندروں نے درختوں سے شور مچایا تاکہ شکاری گھبرا جائے، جبکہ ہاتھی نے زور سے آواز نکالی۔
شکاری ڈر کر بھاگ گیا۔
چوہوں نے جال کاٹ دیا اور ہرن آزاد ہوگیا۔
ہرن نے خوشی سے کہا، "اگر تم سب نہ آتے تو میں کبھی آزاد نہ ہو پاتا۔"
وقت گزرتا گیا اور جنگل پہلے سے بھی زیادہ خوبصورت بن گیا۔ جانوروں نے ایک دوسرے سے وعدہ کیا کہ وہ ہمیشہ سچ بولیں گے، مل جل کر رہیں گے، دوسروں کی مدد کریں گے اور کبھی کسی کا حق نہیں چھینیں گے۔
سالانہ جنگل میلے کا دن آیا۔ تمام جانور اپنے اپنے ہنر دکھا رہے تھے۔ مور نے خوبصورت رقص کیا، کوئل نے سریلی آواز میں گیت گائے، بندروں نے دلچسپ کرتب دکھائے، اور ہاتھی نے اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا۔
آخر میں شیر دل نے سب کو خاموش ہونے کا اشارہ کیا۔
اس نے کہا، "آج میں ایک ایسے جانور کو انعام دینا چاہتا ہوں جس نے ہمیشہ ایمانداری، محنت، ہمدردی اور بہادری کا مظاہرہ کیا ہے۔"
تمام جانور جانتے تھے کہ یہ انعام کس کو ملنے والا ہے۔
شیر دل نے مسکراتے ہوئے چنچل کو اپنے پاس بلایا اور اسے 'جنگل کا بہترین دوست' کا اعزاز دیا۔
پورا جنگل تالیاں بجانے لگا۔
چنچل نے عاجزی سے کہا، "یہ انعام صرف میرا نہیں، ہم سب کا ہے۔ اگر ہم ایک دوسرے کی مدد نہ کرتے تو کوئی بھی کامیاب نہ ہوتا۔"
اس کی بات سن کر سب جانوروں نے خوشی سے نعرہ لگایا، "اتحاد میں طاقت ہے!"
اس دن کے بعد جنگل کے بچے بھی چنچل جیسا بننے کی کوشش کرنے لگے۔ وہ سچ بولتے، بڑوں کا احترام کرتے، جانوروں سے محبت کرتے، درخت لگاتے اور اپنے دوستوں کی مدد کرتے۔
چنچل ہر روز نئے بچوں کو اچھی باتیں سکھاتا۔ وہ کہتا، "اگر تم سچے، محنتی اور مہربان بنو گے تو ہر کوئی تم سے محبت کرے گا۔ دولت سے زیادہ قیمتی چیز اچھا کردار ہے۔"
بچے اس کی باتیں غور سے سنتے اور ان پر عمل کرتے۔ کچھ ہی عرصے میں پورا جنگل محبت، دوستی اور خوشیوں کی مثال بن گیا۔ ہر جانور دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہوتا اور سب ایک دوسرے کا خیال رکھتے۔
اسی لیے کہا جاتا ہے کہ ایمانداری، محنت، نیکی اور آپس کا اتحاد انسان اور معاشرے دونوں کو کامیاب بناتا ہے۔
سبق
- ہمیشہ سچ بولیں۔
- ایمانداری کبھی ضائع نہیں جاتی۔
- دوسروں کی مدد کرنا بہت بڑی نیکی ہے۔
- مل جل کر کام کرنے سے مشکل سے مشکل کام بھی آسان ہو جاتا ہے۔
- اچھا اخلاق اور مہربانی انسان کی سب سے بڑی دولت ہیں۔

0 Comments