سچائی کی طاقت

 

سچائی کی طاقت


ایک چھوٹے سے گاؤں میں علی نام کا ایک پیارا بچہ رہتا تھا۔ علی بہت معصوم اور ذہین تھا، لیکن اس کی ایک عادت اچھی نہیں تھی _ وہ کبھی کبھی جھوٹ بول دیتا تھا۔ اس کی امی اسے ہمیشہ سمجھاتیں کہ بیٹا، سچ بولنا سب سے بڑی خوبی ہے، مگر علی اس بات کو سنجیدگی سے نہیں لیتا تھا۔

ایک دن علی اپنے دوستوں کے ساتھ کھیل رہا تھا۔ کھیل کے دوران اس نے غلطی سے پڑوسی کے باغ میں رکھا ہوا ایک خوبصورت گلدان توڑ دیا۔ گلدان بہت قیمتی تھا اور سب بچے ڈر گئے۔ علی کے دوستوں نے کہا کہ اگر کسی نے پوچھا تو کہہ دینا کہ ہمیں کچھ نہیں پتا۔

جب پڑوسی نے آ کر پوچھا کہ گلدان کس نے توڑا ہے، تو علی نے فوراً کہا، “میں نہیں جانتا!” حالانکہ وہ جانتا تھا کہ یہ اس کی غلطی تھی۔ پڑوسی کو شک ہوا، مگر وہ خاموشی سے چلا گیا۔

شام کو جب علی گھر آیا تو اس کی امی نے اس سے پوچھا، “بیٹا، کیا تم نے کوئی غلطی کی ہے؟” علی نے پھر جھوٹ بول دیا۔ لیکن اس رات وہ سکون سے سو نہ سکا۔ اسے بار بار اپنی امی کی بات یاد آ رہی تھی کہ سچ بولنا بہت ضروری ہے۔

اگلی صبح علی نے ہمت کی اور پڑوسی کے گھر گیا۔ اس نے دروازہ کھٹکھٹایا اور کہا، “انکل، کل گلدان میں نے توڑا تھا۔ مجھے معاف کر دیں، میں ڈر گیا تھا اس لیے جھوٹ بول دیا تھا۔”

پڑوسی نے مسکرا کر کہا، “بیٹا، تم نے سچ بول کر بہت بہادری دکھائی ہے۔ غلطی ہر انسان سے ہوتی ہے، مگر سچ بولنے والا ہمیشہ عزت پاتا ہے۔”

علی کو اپنی غلطی کا احساس ہو گیا۔ اس نے وعدہ کیا کہ وہ آئندہ کبھی جھوٹ نہیں بولے گا۔ جب وہ گھر واپس آیا اور اپنی امی کو سب کچھ بتایا تو اس کی امی بہت خوش ہوئیں اور اسے پیار کیا۔

اس دن کے بعد علی نے ہمیشہ سچ بولنا شروع کر دیا۔ اس کے دوست بھی اس سے سیکھنے لگے کہ سچائی ہی اصل طاقت ہے۔ گاؤں کے سب لوگ علی کی تعریف کرتے اور اسے ایک اچھا بچہ سمجھتے۔

سبق:

ہمیں ہمیشہ سچ بولنا چاہیے، کیونکہ سچائی ہمیں عزت اور سکون دیتی ہے۔

Post a Comment

0 Comments