کوفہ کے خطوط اور دعوت

 

کوفہ کے خطوط اور دعوت

واقعۂ کربلا کی تاریخ میں "کوفہ کے خطوط اور دعوت" ایک نہایت اہم باب ہے۔ یہی وہ مرحلہ تھا جس نے بعد میں حضرت امام حسینؓ کے سفرِ عراق اور پھر واقعۂ کربلا کی بنیاد رکھی۔ کوفہ کے ہزاروں باشندوں نے حضرت امام حسینؓ کو خطوط لکھ کر عراق آنے کی دعوت دی، ان کی حمایت کا یقین دلایا اور انہیں اپنا قائد تسلیم کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ لیکن بعد میں حالات نے ایسا رخ اختیار کیا کہ یہی شہر حضرت امام حسینؓ کے لیے مشکلات کا سبب بن گیا۔

کوفہ کا تعارف

کوفہ عراق کا ایک مشہور شہر تھا جسے حضرت عمر فاروقؓ کے دورِ خلافت میں آباد کیا گیا تھا۔ یہ شہر جلد ہی علم، سیاست اور فوجی سرگرمیوں کا ایک اہم مرکز بن گیا۔ حضرت علی المرتضیٰؓ نے اپنے دورِ خلافت میں کوفہ کو دارالحکومت بنایا تھا، جس کی وجہ سے اہلِ کوفہ کو اہلِ بیتِ رسول ﷺ سے خاص محبت اور عقیدت حاصل تھی۔

حضرت علیؓ کے زمانے میں کوفہ اسلامی حکومت کا مرکز رہا اور یہاں کے لوگ سیاسی معاملات میں بھرپور دلچسپی رکھتے تھے۔ اسی پس منظر کی وجہ سے حضرت امام حسینؓ کے لیے اہلِ کوفہ کے دلوں میں خاص مقام موجود تھا۔

یزید کی حکومت کا آغاز

60 ہجری میں حضرت معاویہؓ کے انتقال کے بعد یزید حکمران بنا۔ اس نے مختلف علاقوں کے گورنروں کو حکم دیا کہ اہم شخصیات سے اس کی بیعت لی جائے۔

حضرت امام حسینؓ نے یزید کی بیعت نہیں کی اور مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ تشریف لے گئے۔ جب یہ خبر کوفہ پہنچی تو وہاں کے بہت سے لوگ خوش ہوئے کہ حضرت امام حسینؓ نے بیعت سے انکار کر دیا ہے۔

کوفہ کے بہت سے افراد پہلے ہی یزید کی حکومت سے مطمئن نہیں تھے اور وہ کسی ایسے رہنما کی تلاش میں تھے جو ان کی قیادت کر سکے۔

خطوط لکھنے کا آغاز

جب اہلِ کوفہ کو معلوم ہوا کہ حضرت امام حسینؓ مکہ مکرمہ میں قیام پذیر ہیں تو انہوں نے خطوط لکھنے کا سلسلہ شروع کر دیا۔

ابتدا میں چند افراد نے خطوط ارسال کیے، لیکن جلد ہی یہ سلسلہ ایک بڑی تحریک کی صورت اختیار کر گیا۔ روزانہ درجنوں بلکہ سینکڑوں خطوط مکہ مکرمہ پہنچنے لگے۔

ان خطوط میں اہلِ کوفہ نے حضرت امام حسینؓ سے درخواست کی کہ وہ عراق تشریف لائیں اور امت کی قیادت سنبھالیں۔

انہوں نے لکھا:

"ہمارا کوئی امام نہیں ہے، آپ تشریف لائیں، اللہ تعالیٰ آپ کے ذریعے ہمیں حق کے راستے پر جمع فرما دے گا۔"

خطوط کی تعداد

تاریخی روایات کے مطابق حضرت امام حسینؓ کو ہزاروں خطوط موصول ہوئے۔ بعض مورخین کے مطابق خطوط کی تعداد بارہ ہزار سے بھی زیادہ تھی، جبکہ بعض روایات میں اس سے زیادہ تعداد بیان کی گئی ہے۔

ان خطوط پر کوفہ کے مختلف قبائل، علماء، عمائدین اور عام لوگوں کے دستخط موجود تھے۔

مسلسل آنے والے خطوط اس بات کا اظہار تھے کہ کوفہ کے ایک بڑے طبقے میں حضرت امام حسینؓ کے لیے محبت اور حمایت کا جذبہ موجود تھا۔

اہلِ کوفہ کے وعدے

اہلِ کوفہ نے اپنے خطوط میں بار بار وعدہ کیا کہ اگر حضرت امام حسینؓ عراق تشریف لائیں تو وہ ان کا بھرپور ساتھ دیں گے۔

انہوں نے لکھا کہ:

- ہم آپ کی بیعت کریں گے۔

- ہم آپ کے دشمنوں کا مقابلہ کریں گے۔

- ہم آپ کے لیے اپنی جانیں قربان کریں گے۔

- ہم آپ کو اپنا قائد اور رہنما تسلیم کریں گے۔

یہ وعدے حضرت امام حسینؓ کے لیے یقیناً اہم تھے کیونکہ ہزاروں لوگوں کی جانب سے یکساں دعوت ملنا ایک غیر معمولی بات تھی۔

حضرت امام حسینؓ کا طرزِ عمل

حضرت امام حسینؓ نے جلد بازی سے کوئی فیصلہ نہیں کیا۔

اگرچہ خطوط کی تعداد بہت زیادہ تھی، لیکن آپؓ نے حالات کا جائزہ لینے کو ضروری سمجھا۔ آپؓ جانتے تھے کہ سیاسی معاملات میں احتیاط اور تحقیق بہت اہم ہوتی ہے۔

اسی لیے آپؓ نے کوفہ کے حالات کی تصدیق کے لیے ایک قابلِ اعتماد نمائندہ بھیجنے کا فیصلہ کیا۔

حضرت مسلم بن عقیلؓ کا انتخاب

حضرت امام حسینؓ نے اپنے چچا زاد بھائی حضرت مسلم بن عقیلؓ کو کوفہ روانہ کیا۔

حضرت مسلم بن عقیلؓ نہایت دیانت دار، بہادر اور سمجھدار شخصیت تھے۔ آپؓ کو یہ ذمہ داری دی گئی کہ وہ کوفہ جا کر وہاں کے حالات کا جائزہ لیں اور صحیح معلومات فراہم کریں۔

حضرت مسلم بن عقیلؓ کوفہ پہنچے تو ابتدا میں ان کا شاندار استقبال کیا گیا۔

کوفہ میں بیعت

حضرت مسلم بن عقیلؓ کے ہاتھ پر ہزاروں لوگوں نے بیعت کی۔

بعض تاریخی روایات کے مطابق بارہ ہزار سے اٹھارہ ہزار افراد نے بیعت کی، جبکہ بعض روایات میں اس سے بھی زیادہ تعداد کا ذکر ملتا ہے۔

اس صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے حضرت مسلم بن عقیلؓ نے حضرت امام حسینؓ کو پیغام بھیجا کہ کوفہ کے حالات بظاہر سازگار ہیں اور لوگ آپؓ کے منتظر ہیں۔

یہ اطلاع حضرت امام حسینؓ کے لیے نہایت اہم تھی کیونکہ یہ صرف خطوط ہی نہیں بلکہ عملی حمایت کا اظہار بھی تھا۔

حالات کا اچانک بدل جانا

جب یزید کو کوفہ کی صورتحال کا علم ہوا تو اس نے عبیداللہ بن زیاد کو کوفہ کا گورنر مقرر کر دیا۔

عبیداللہ بن زیاد ایک سخت مزاج اور طاقتور منتظم تھا۔ کوفہ پہنچتے ہی اس نے اہلِ کوفہ پر دباؤ ڈالنا شروع کر دیا۔

اس نے قبائلی سرداروں کو دھمکیاں دیں، لوگوں کو ڈرایا اور مخالفین کے خلاف سخت اقدامات کیے۔

نتیجتاً بہت سے لوگ جو پہلے حضرت مسلم بن عقیلؓ کے ساتھ تھے، خوف کی وجہ سے پیچھے ہٹنے لگے۔

حضرت مسلم بن عقیلؓ کی تنہائی

چند ہی دنوں میں حالات مکمل طور پر بدل گئے۔

ہزاروں افراد کی حمایت آہستہ آہستہ ختم ہونے لگی اور حضرت مسلم بن عقیلؓ تنہا رہ گئے۔

جو لوگ پہلے بڑے بڑے وعدے کر رہے تھے، ان میں سے اکثر نے خوف یا مصلحت کی وجہ سے ساتھ چھوڑ دیا۔

یہ صورتحال حضرت مسلم بن عقیلؓ کے لیے انتہائی تکلیف دہ تھی۔

حضرت مسلم بن عقیلؓ کی شہادت

آخرکار حضرت مسلم بن عقیلؓ گرفتار کر لیے گئے۔

انہوں نے نہایت بہادری اور استقامت کا مظاہرہ کیا لیکن انہیں شہید کر دیا گیا۔

شہادت سے پہلے انہوں نے کوشش کی کہ حضرت امام حسینؓ تک کوفہ کے بدلتے ہوئے حالات کی خبر پہنچ جائے تاکہ وہ احتیاط سے فیصلہ کر سکیں۔

امام حسینؓ کی روانگی

اسی دوران حضرت امام حسینؓ مکہ مکرمہ سے عراق کی طرف روانہ ہو چکے تھے۔

راستے میں آپؓ کو حضرت مسلم بن عقیلؓ کی شہادت اور کوفہ کے بدلتے ہوئے حالات کی اطلاع ملی۔

یہ خبر یقیناً نہایت افسوسناک تھی، لیکن آپؓ نے اپنا سفر جاری رکھا۔

کوفہ کے خطوط کی تاریخی اہمیت

کوفہ کے خطوط واقعۂ کربلا کے پس منظر کو سمجھنے کے لیے بہت اہم ہیں۔

یہ خطوط ظاہر کرتے ہیں کہ ابتدا میں اہلِ کوفہ کی ایک بڑی تعداد حضرت امام حسینؓ کو اپنا قائد بنانا چاہتی تھی۔

لیکن بعد میں سیاسی دباؤ، خوف اور حالات کی تبدیلی نے بہت سے لوگوں کو اپنے وعدوں سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔

حاصلِ کلام

کوفہ کے خطوط اور دعوت واقعۂ کربلا کے اہم ترین مراحل میں سے ایک ہیں۔ اہلِ کوفہ نے حضرت امام حسینؓ کو بار بار عراق آنے کی دعوت دی، ان کی حمایت کا یقین دلایا اور انہیں اپنا رہنما تسلیم کرنے کا وعدہ کیا۔ انہی دعوتوں اور حضرت مسلم بن عقیلؓ کی ابتدائی رپورٹ کی بنیاد پر حضرت امام حسینؓ نے عراق کی طرف سفر کا ارادہ فرمایا۔

بعد ازاں حالات تبدیل ہو گئے اور بہت سے لوگ اپنے وعدوں پر قائم نہ رہ سکے، جس کے نتیجے میں تاریخ کا عظیم سانحۂ کربلا پیش آیا۔ یہ واقعہ ہمیں وعدے کی پاسداری، حق پر ثابت قدمی اور مشکل حالات میں استقامت کا درس دیتا ہے۔

Post a Comment

0 Comments