7 محرم: پانی کی بندش کا واقعہ

 


پانی کی بندش کا واقع 

واقعۂ کربلا اسلامی تاریخ کا ایک ایسا باب ہے جس میں صبر، استقامت، قربانی اور حق پرستی کی بے مثال داستانیں رقم ہوئیں۔ اس واقعے کے دوران پیش آنے والے ہر مرحلے میں اہلِ بیتِ رسول ﷺ اور ان کے وفادار ساتھیوں نے عظیم حوصلے اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا۔ انہی اہم واقعات میں سے ایک 7 محرم الحرام 61 ہجری کا واقعہ ہے، جب حضرت امام حسینؓ اور ان کے اہلِ خانہ پر دریائے فرات کا پانی بند کر دیا گیا۔ یہ واقعہ تاریخِ اسلام کے دردناک ترین واقعات میں شمار ہوتا ہے کیونکہ اس میں صرف جنگجو ہی نہیں بلکہ خواتین، بچے اور بیمار افراد بھی شدید پیاس کی آزمائش میں مبتلا ہو گئے تھے۔

کربلا میں قیام

2 محرم 61 ہجری کو حضرت امام حسینؓ اپنے اہلِ بیت اور وفادار ساتھیوں کے ساتھ کربلا کی سرزمین پر پہنچے۔ آپؓ کے قافلے میں مردوں کے علاوہ خواتین، بچے اور بزرگ بھی شامل تھے۔ کربلا ایک وسیع صحرائی میدان تھا جس کے قریب دریائے فرات بہتا تھا۔ یہی دریا اس علاقے میں پانی کا سب سے بڑا ذریعہ تھا۔

ابتدائی دنوں میں حضرت امام حسینؓ کے قافلے کو پانی حاصل کرنے میں کوئی رکاوٹ پیش نہیں آئی۔ لوگ دریا سے پانی لا کر اپنی ضروریات پوری کرتے تھے۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یزیدی لشکر کی تعداد بڑھتی گئی اور حالات مزید کشیدہ ہوتے چلے گئے۔

یزیدی لشکر کا دباؤ

حضرت امام حسینؓ کے کربلا پہنچنے کے بعد مختلف علاقوں سے یزیدی فوج کے دستے آنا شروع ہو گئے۔ عمر بن سعد کو لشکر کا سربراہ مقرر کیا گیا۔ اس نے اپنی فوج کے ساتھ حضرت امام حسینؓ کے خیموں کا محاصرہ کر لیا۔

اگرچہ حضرت امام حسینؓ بار بار مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل نکالنے کی کوشش کرتے رہے، لیکن مخالف لشکر مسلسل سختی اختیار کرتا گیا۔ ان کا مقصد حضرت امام حسینؓ کو دباؤ میں لانا اور انہیں اپنی شرائط قبول کرنے پر مجبور کرنا تھا۔

پانی بند کرنے کا حکم

7 محرم الحرام کو عبیداللہ بن زیاد کی طرف سے عمر بن سعد کے نام ایک حکم نامہ پہنچا۔ اس حکم میں کہا گیا کہ حضرت امام حسینؓ اور ان کے ساتھیوں کو دریائے فرات سے پانی لینے سے روک دیا جائے۔

اس حکم کے بعد عمر بن سعد نے عمرو بن حجاج کی قیادت میں سپاہیوں کا ایک دستہ دریائے فرات پر تعینات کر دیا تاکہ کوئی شخص پانی حاصل نہ کر سکے۔

اس طرح حضرت امام حسینؓ، ان کے اہلِ بیت اور ساتھیوں کے لیے پانی کا راستہ بند کر دیا گیا۔

پانی کی اہمیت

کربلا کا علاقہ گرم اور صحرائی تھا۔ محرم کے دنوں میں بھی وہاں کا موسم خشک اور سخت تھا۔ ایسے ماحول میں پانی زندگی کی بنیادی ضرورت تھا۔

قافلے میں موجود بچوں، خواتین اور بزرگوں کے لیے پانی نہایت ضروری تھا۔ شدید گرمی اور صحرائی فضا میں پانی کی کمی ایک بہت بڑی آزمائش تھی۔

جب پانی کی فراہمی بند ہوئی تو خیموں میں موجود افراد کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

اہلِ بیت کی آزمائش

پانی بند ہونے کے بعد سب سے زیادہ تکلیف بچوں اور خواتین کو ہوئی۔ معصوم بچے پیاس کی شدت سے بے قرار ہونے لگے۔

خیموں میں موجود خواتین بچوں کو تسلی دیتی رہیں، لیکن پانی کی قلت ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتی جا رہی تھی۔

حضرت امام حسینؓ کے اہلِ بیت نے اس مشکل وقت میں صبر اور حوصلے کا دامن نہیں چھوڑا۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی رہتے ہوئے ہر آزمائش کا سامنا کیا۔

حضرت عباسؓ کی ذمہ داری

حضرت عباسؓ، جو حضرت امام حسینؓ کے بھائی تھے، اہلِ بیت کے محافظ اور علمبردار تھے۔

جب پانی کی کمی بڑھنے لگی تو حضرت عباسؓ نے کئی مرتبہ پانی لانے کی کوشش کی۔ آپؓ اپنی بہادری، وفاداری اور شجاعت کے لیے مشہور تھے۔

حضرت عباسؓ ہمیشہ اہلِ بیت کے بچوں اور خواتین کی ضروریات کا خیال رکھتے تھے اور ان کی تکلیف کو اپنی تکلیف سمجھتے تھے۔

پیاس کی شدت

چند دنوں کے اندر اندر صورتحال مزید سنگین ہو گئی۔

خیموں میں موجود پانی کے ذخائر ختم ہونے لگے۔ بچوں کی زبانیں خشک ہو گئیں اور پیاس کی شدت بڑھنے لگی۔

چھوٹے بچے بار بار پانی مانگتے تھے، لیکن دینے کے لیے پانی موجود نہیں تھا۔

یہ منظر اہلِ بیت کے لیے انتہائی تکلیف دہ تھا۔ ایک طرف دشمن کا محاصرہ تھا اور دوسری طرف معصوم بچوں کی پیاس۔

امام حسینؓ کا صبر

حضرت امام حسینؓ نے اس پوری آزمائش کے دوران بے مثال صبر کا مظاہرہ کیا۔

آپؓ نے کبھی شکایت نہیں کی بلکہ ہر حال میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھا۔

آپؓ اپنے ساتھیوں کو بھی صبر، استقامت اور اللہ کی رضا پر راضی رہنے کی تلقین کرتے رہے۔

امام حسینؓ جانتے تھے کہ یہ آزمائش صرف دنیاوی نہیں بلکہ ایک عظیم مقصد کے لیے پیش آ رہی ہے۔

دشمن کا رویہ

دریائے فرات کا پانی بند کرنا ایک ایسا اقدام تھا جس نے تاریخ میں گہرا اثر چھوڑا۔

پانی جیسی بنیادی ضرورت سے محروم کرنا نہ صرف جنگی دباؤ کا ایک ذریعہ تھا بلکہ اس سے خواتین اور بچوں کو بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

اس کے باوجود حضرت امام حسینؓ اور ان کے ساتھیوں نے اپنی عزتِ نفس اور اصولوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔

وفادار ساتھیوں کا جذبہ

حضرت امام حسینؓ کے ساتھی جانتے تھے کہ پانی کی قلت ان کے لیے مزید مشکلات پیدا کرے گی۔

اس کے باوجود انہوں نے امام حسینؓ کا ساتھ نہیں چھوڑا۔

ہر شخص اپنے قائد اور اہلِ بیت کے لیے قربانی دینے کو تیار تھا۔ ان کا ایمان اور وفاداری اتنی مضبوط تھی کہ کوئی مشکل انہیں حق کے راستے سے ہٹا نہ سکی۔

حضرت زینبؓ کا کردار

حضرت زینبؓ نے بھی اس مشکل وقت میں غیر معمولی صبر اور حوصلے کا مظاہرہ کیا۔

آپؓ بچوں اور خواتین کو تسلی دیتی رہیں اور انہیں اللہ تعالیٰ کی رحمت کی امید دلاتی رہیں۔

مشکل حالات کے باوجود حضرت زینبؓ کی ہمت اور استقامت اہلِ بیت کے لیے ایک مضبوط سہارا بنی رہی۔

آزمائش کا مقصد

کربلا کا واقعہ محض ایک تاریخی جنگ نہیں تھا بلکہ حق اور باطل کے درمیان ایک عظیم امتحان تھا۔

پانی کی بندش نے اہلِ بیت کے صبر، ایمان اور استقامت کو دنیا کے سامنے نمایاں کر دیا۔

یہ آزمائش اس بات کی گواہ ہے کہ حضرت امام حسینؓ اور ان کے ساتھیوں نے دینِ اسلام کی سربلندی کے لیے ہر قسم کی تکلیف برداشت کی

۔7 محرم کی تاریخی اہمیت

 محرم الحرام کا دن واقعۂ کربلا میں ایک اہم موڑ کی حیثیت رکھتا ہے۔

اسی دن پانی بند کیے جانے کے بعد اہلِ بیت کی مشکلات میں اضافہ ہوا اور کربلا کے آخری مراحل کا آغاز ہوا۔

یہ واقعہ آج بھی مسلمانوں کو صبر، استقامت اور قربانی کی یاد دلاتا ہے۔

واقعے سے ملنے والے اسباق

 محرم کے واقعے سے ہمیں کئی اہم اسباق حاصل ہوتے ہیں

- مشکل حالات میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔

- حق کے راستے میں آنے والی آزمائشوں سے گھبرانا نہیں چاہیے۔

- صبر اور استقامت ایمان کی بڑی نشانیاں ہیں۔

- دین کی خاطر قربانی دینا عظیم عمل ہے۔

- اہلِ بیتِ رسول ﷺ کی محبت اور احترام ہر مسلمان کے دل میں ہونا چاہیے۔

نتیجہ

7 محرم الحرام کو پانی کی بندش کا واقعہ سانحۂ کربلا کے سب سے دردناک اور اہم واقعات میں شمار ہوتا ہے۔ دریائے فرات کا پانی بند ہونے کے بعد حضرت امام حسینؓ، اہلِ بیت اور ان کے وفادار ساتھیوں نے شدید پیاس اور مشکلات کا سامنا کیا، لیکن حق اور اصولوں پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا۔

یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ حق کی خاطر قربانی دینا، صبر اختیار کرنا اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھنا ہی کامیابی کا راستہ ہے۔ حضرت امام حسینؓ اور اہلِ بیت کی یہ عظیم قربانی قیامت تک مسلمانوں کے لیے ہدایت، استقامت اور حق پرستی کی روشن مثال بنی رہے گی۔

Post a Comment

0 Comments