🌙 حضرت علیؓ اور خیبر کا دروازہ



اسلامی تاریخ میں جنگِ خیبر ایک اہم اور یادگار معرکہ ہے، جس میں مسلمانوں نے بہادری اور ایمان کی اعلیٰ مثال قائم کی۔ اس جنگ کا سب سے مشہور واقعہ Ali ibn Abi Talib کی شجاعت اور اللہ پر کامل یقین کا مظہر ہے۔

خیبر مدینہ منورہ کے قریب ایک مضبوط قلعوں والا علاقہ تھا جہاں یہودی قبائل آباد تھے۔ یہ لوگ مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرتے اور دشمنوں کی مدد کرتے تھے، جس کی وجہ سے مسلمانوں کو ان کے خلاف اقدام کرنا پڑا۔ جب مسلمان لشکر خیبر پہنچا تو انہیں سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ قلعے بہت مضبوط اور محفوظ تھے۔

ابتدائی دنوں میں مسلمانوں کو فتح حاصل نہ ہو سکی۔ اس موقع پر نبی کریم Muhammad ﷺ نے فرمایا:

“کل میں جھنڈا ایسے شخص کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے، اور اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت کرتے ہیں، اور اللہ اس کے ہاتھوں فتح عطا فرمائے گا۔”

اگلے دن سب صحابہ کرامؓ اس سعادت کے منتظر تھے۔ پھر نبی کریم ﷺ نے حضرت علیؓ کو بلایا۔ اس وقت حضرت علیؓ کی آنکھوں میں تکلیف تھی، لیکن آپ ﷺ نے ان کی آنکھوں پر اپنا لعاب دہن لگایا جس سے وہ فوراً ٹھیک ہو گئیں۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے جھنڈا حضرت علیؓ کو عطا کیا۔

حضرت علیؓ میدانِ جنگ میں اترے اور دشمن کے مشہور پہلوان مرحب کو مقابلے کے لیے للکارا۔ مرحب اپنی طاقت اور بہادری کے لیے مشہور تھا، لیکن حضرت علیؓ نے اللہ کے نام پر اس کا مقابلہ کیا اور اسے شکست دے دی۔ اس کے بعد مسلمانوں کا حوصلہ بلند ہو گیا۔

اسی جنگ میں ایک عظیم واقعہ پیش آیا جس نے حضرت علیؓ کی قوت اور ایمان کو ہمیشہ کے لیے تاریخ میں امر کر دیا۔ جب قلعہ خیبر کا دروازہ مسلمانوں کے لیے رکاوٹ بن گیا تو حضرت علیؓ نے غیر معمولی طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس بھاری دروازے کو اکھاڑ دیا۔ روایت کے مطابق، اس دروازے کو کئی افراد مل کر بھی نہیں ہلا سکتے تھے، لیکن حضرت علیؓ نے اسے تنہا اٹھا لیا اور اسے ڈھال کے طور پر استعمال کیا۔

یہ واقعہ صرف جسمانی طاقت کا مظہر نہیں تھا بلکہ اللہ پر یقین اور ایمان کی طاقت کا بھی ثبوت تھا۔ حضرت علیؓ نے یہ کارنامہ اپنی قوت کے بل پر نہیں بلکہ اللہ کی مدد سے انجام دیا۔

جنگ کے بعد صحابہ کرامؓ اس واقعے پر حیران رہ گئے۔ انہوں نے دیکھا کہ جو کام کئی لوگ مل کر نہیں کر سکتے تھے، وہ حضرت علیؓ نے اکیلے کر دکھایا۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جب انسان کا ایمان مضبوط ہو تو اللہ اسے ایسی طاقت عطا کرتا ہے جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتی۔

جنگِ خیبر بالآخر مسلمانوں کی فتح پر ختم ہوئی اور یہ اسلام کی ایک بڑی کامیابی ثابت ہوئی۔ اس فتح نے مسلمانوں کے حوصلے بلند کیے اور دشمنوں پر ان کی طاقت کا رعب بٹھا دیا۔

حضرت علیؓ کی بہادری، قربانی اور اللہ پر بھروسہ آج بھی مسلمانوں کے لیے ایک مثال ہے۔ ان کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ مشکل حالات میں صبر، حوصلہ اور ایمان کے ساتھ ڈٹے رہنا چاہیے۔

📌 سبق:

یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ اللہ پر کامل یقین اور سچی نیت کے ساتھ انسان ناممکن کو بھی ممکن بنا سکتا ہے۔

Post a Comment

0 Comments