
ایک شہر میں بلال نام کا ایک لڑکا رہتا تھا۔ بلال بہت خوش مزاج اور ملنسار تھا، اسی لیے اس کے بہت سے دوست تھے۔ مگر وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ سچا دوست کون ہوتا ہے اور برا دوست کون۔
اس کے دو خاص دوست تھے، احمد اور کامران۔ احمد ایک محنتی اور ایماندار لڑکا تھا، جبکہ کامران شرارتی تھا اور اکثر غلط کاموں میں لگا رہتا تھا۔ بلال دونوں کے ساتھ وقت گزارتا، مگر اسے کامران کی باتیں زیادہ دلچسپ لگتی تھیں۔
ایک دن کامران نے بلال سے کہا، “چلو آج اسکول نہ جائیں، باہر کھیلتے ہیں۔” بلال پہلے تو ہچکچایا، مگر پھر مان گیا۔ وہ دونوں سارا دن کھیلتے رہے۔ جب وہ گھر پہنچا تو اس کے والد نے پوچھا، “آج اسکول کیسا رہا؟” بلال نے جھوٹ بول دیا کہ سب ٹھیک تھا۔
کچھ دن بعد کامران نے پھر ایسا ہی کہا۔ اس بار بھی بلال اس کے ساتھ چلا گیا۔ آہستہ آہستہ بلال کی عادت خراب ہونے لگی۔ وہ پڑھائی میں کمزور ہوتا جا رہا تھا اور اس کے نمبر بھی کم آنے لگے۔
ادھر احمد ہمیشہ اسے سمجھاتا، “بلال، یہ سب ٹھیک نہیں ہے۔ تمہیں اپنی پڑھائی پر توجہ دینی چاہیے۔” مگر بلال اس کی باتوں کو نظر انداز کرتا رہا۔
ایک دن اسکول میں اچانک ٹیسٹ ہوا۔ بلال تیار نہیں تھا کیونکہ وہ پڑھائی چھوڑ چکا تھا۔ نتیجہ آیا تو وہ بہت کم نمبر لے کر آیا، جبکہ احمد نے بہترین نمبر حاصل کیے۔
اس دن بلال کو اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ اسے سمجھ آ گیا کہ کامران کی دوستی اسے نقصان پہنچا رہی ہے، جبکہ احمد سچا دوست ہے جو ہمیشہ اس کی بھلائی چاہتا ہے۔
بلال نے فیصلہ کیا کہ وہ اب احمد کی بات مانے گا اور محنت کرے گا۔ اس نے کامران سے فاصلہ کر لیا اور اپنی پڑھائی پر توجہ دینا شروع کر دی۔ احمد نے بھی اس کی بھرپور مدد کی۔
کچھ ہی مہینوں میں بلال کے نمبر بہتر ہو گئے اور وہ ایک اچھا طالب علم بن گیا۔ اب وہ جان چکا تھا کہ سچا دوست وہی ہوتا ہے جو ہمیں صحیح راستہ دکھائے۔
سبق:
ہمیشہ اچھے دوستوں کا انتخاب کریں، کیونکہ دوست ہمارے کردار اور مستقبل پر بہت اثر ڈالتے ہیں۔
0 Comments